اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ عباس زکی نے چند روز قبل دمشق میں صدر بشار الاسد سے ملاقات کے دوران نئے امیر قطر تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی کا ایک خط ان کے سپرد کیا ہے جس میں تمیم بن حمد نے خواہش ظاہر کی ہے کہ قطر اور شام کے تعلقات بہتر ہوں۔ امیر قطر نے کہا ہے کہ قطر میں نئی حکومت برسر اقتدار آئی ہے اور خارجہ پالیسی مکمل طور پر بدل دی گئی ہے چنانچہ دو ملکوں کے درمیان تعلقات کے لئے راستہ ہموار ہے۔ ادھر لبنانی اخبار السفیر نے اپنے تجزیئے میں لکھا ہے کہ اس پیغام کے معنی یہ ہیں کہ قطر اپنی خارجہ پالیسی قدم بقدم تبدیل کررہا ہے کیونکہ اس پالیسی کو اچانک اور ایک ہی مرحلے میں بدلنا ممکن نہیں ہے۔ اس اخبار نے لکھا ہے کہ زکی عباس کو امیر قطر نے اس وقت شام جانے کا مشن سونپا تھا جب انھوں نے حال میں محمود عباس کی ملاقات کی تھی۔ اس میں شک نہیں ہے کہ قطر کی عظیم مالی امداد کی وجہ سے شام کا ایک بڑا حصہ تباہ ہوچکا ہے اور دمشق نے بھی بارہا قطر کے اس رویئے پر تنقید کی ہے۔ قطر نے شام کے خلاف برسر پیکار دہشت گردوں کو 3 ارب ڈالر کی امداد فراہم کرکے اس ملک کی ویرانی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مصری قلمکار سناء السعید" نے "تھپڑ اس کے لئے جس کا وہ مستحق ہے" کے عنوان سے ایک مضمون میں لکھا: چھوٹی ریاست قطر نے اپنی مرضی سے ـ دہشت گرد گروپوں کے سب سے بڑی حامی کے طور پر ـ تین ارب ڈالر شام میں مسلح گروپوں کو ادا کئے ہیں۔ اس مضمون میں کہا گیا ہے: قطر پیسے کے ذریعے دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت کرتا ہے اور امریکہ کی خواہش کے مطابق حکومتوں کا تختہ الٹنے کی کوشش کرتا ہے تا کہ امریکہ کی مدد سے علاقے کو عدم استحکام اور افراتفری سے دوچار کرے اور صہیونی ریاست کے مفاد میں عظیم تر مشرق وسطی کی تشکیل کے لئے راہ ہموار کرے۔ سناء السعید نے مزید لکھا ہے: شام میں قطر کی مداخلت اس بات کا نتیجہ ہے کہ مغربی دنیا نے علاقے میں قطر کو مرکزی کھلاڑی کے عنوان سے کردار سونپا ہے جس کی وجہ سے قطر مسلح گروپوں اور دہشت گردوں کے لئے ہتھیارو کی سپلائی اور دہشت گردوں کی دہشت گردی کا سرچشمے میں تبدیل ہوا۔ اس مضمون میں مزید لکھا گیا ہے کہ اسٹاک ہوم میں ہتھیاروں کی نقل و حرکت کے بارے میں تحقیق کرنے والے ایک ادارے نے اعلان کیا ہے کہ قطر نے 2012 اور 2013 کے دوران اسلحے کے 70 کھیپ آئیر کارگو کے ذریعے ترکی منتقل کئے ہیں اور یہ ہتھیار شام کے خلاف برسر پیکار دہشت گردوں کے حوالے کئے گئے ہیں۔ سناء السعید نے لکھا ہے کہ قطر کا کردار شام کے دہشت گردوں کے لئے ہتھیاروں کی فراہمی تک محدود نہیں ہے بلکہ قطر کے شیطانی اور جہنمی چینل الجزیرہ جھوٹی تشہیری مہم چلا کر حقائق کی تحریف میں مصروف عمل ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس سال مارچ کے مہینے میں شام مخالف گروپوں کا اجلاس قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہوا اور اس اجلاس کے موقع پر شام کا سفارتخانہ باغی گروپوں کی تحویل میں دیا گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
شام مخالفین کی شکست کی اہم علامت؛
صدر اسد کے لئے امیر قطر کا پیغام خیرسگالی! تعلقات کی بہتری کی خواہش
10 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 471404
فلسطینی ذرائع نے آج انکشاف کیا ہے کہ نئے امیر قطر تمیم بن حمد آل ثانی نے تحریک فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن عباس زکی کے ذریعے صدر بشار الاسد کے نام اپنے پیغام میں شام ـ قطر تعلقات کی بہتری کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر کی سابقہ خارجہ پالیسی بدل دی گئی ہے۔